ممبئی،4؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس پرایک زمین گھوٹالے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ مذکورہ 24 ایکٹرزمین کی مالیت 1767 کروڑر وپے بتائی گئی ہے اور کوئنہ زراعتی علاقہ میں واقع اس قطعہ اراضی سے غریب کسانوں کوہٹادیا گیا ہے اور نجی ڈیولپرکو سونپ دیا گیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے قدآورلیڈر رندیپ سرجے والا، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان اور ممبئی کانگریس صدرسنجے نروپم نے کہا کہ نئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے نزدیک نوی ممبئی میں پراڈائزبلڈرس کے منیش بھاتیجہ نے زمین کی فرمائش کی اور ایک منصوبہ طریقہ سے سڈکو کی زمین کو نجی بلڈرس کے حوالے کردیا گیا۔
سنجے نروپم نے کہا کہ رائے گڑھ ضلع میں کلکٹر نے سڈکو کی نوٹفائی لینڈ کو کوئنہ کے زراعتی منصوبے سے متاثر کسانوں کو الاٹ کردیا اور پرڈائزبلڈرس نے ان کسانوں سے ایک معاہدہ کیا کہ فی ایکڑ 15لاکھ روپے میں فروخت کردیا جائے۔ شہری ترقیات اور سڈکو وزارت کے سربراہ وزیراعلیٰ ہیں اور وزارت کی جانب سے کوئی اعتراض نہیں کیا گیا جبکہ زمین سینٹر ل پارک فیس 2 کے لیے مخصوص تھی۔
رندیپ سرجے والا نے اس معاملہ کی جوڈیشنل جانچ کا مطالبہ کیا ہے اور اس کے لیے ہائی کورٹ کے سٹنگ جج کو مقررکیا جائے۔ کیونکہ بلڈرس کو وزیراعلیٰ کی جانب سے خاص رعایت فراہم کی گئی ہے۔
کانگریس نے اس گھوٹالے پر کچھ سوال پوچھے ہیں:
وہ 8 کسان کون تھے اور ان کی پہچان کیوں کی گئی؟
ان کسانوں کی کھیتی کی زمین الاٹ کرنے کے بدلے کیسے سڈکو کی قیمتی زمین الاٹ کی گئی؟
بلڈر نے کیسے کسانوں کے ساتھ زمین فروخت کا قرار کر لیا، جسے کسانوں کو الاٹمنٹ کے فوری بعد معمولی قیمت پر بیچ دیا گیا؟
آخر سڈکو-یو ڈی ڈی اور پیراڈائیز بلڈرز کے بیچ رشتہ کیا ہے؟
انہیں تقریباً 1767 کروڑ روپے کی قیمت کی زمین محض 3.6 کروڑ روپے میں حاصل کرنے کے سودے کے لئے فڑنویس کی حمایت حاصل کیوں ہوئی؟
حالانکہ بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے ترجمان مادھو بھنڈاری نے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا اور اسے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ جبکہ فڑنویس کے قریبی اور رکن اسمبلی پرساد لاڈ نے کانگریس کے خلاف 500 کروڑ روپے کے ہتک عزت کا مقدمہ دارئر کرنے کی دھمکی دی ہے۔